ہیڈ لائنز

ایران میں تعلیمی شعبہ شدید متاثر، امریکی اسرائیلی حملوں میں سیکڑوں طلبا و اساتذہ شہید



سرکاری اعداد و شمار جاری، سینکڑوں اسکول تباہ، ہزاروں شہری املاک متاثر، انسانی بحران شدت اختیار کر گیا

منگل، 14 اپریل 2026
رپورٹ: جستجو نیوز

ایران میں حالیہ عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں تعلیمی نظام کو شدید نقصان پہنچنے کے انکشافات سامنے آئے ہیں، جہاں سرکاری رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملوں نے اسکولوں، طلبا اور اساتذہ کو براہِ راست نشانہ بنایا۔

ایرانی وزارت تعلیم کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق 28 فروری سے 8 اپریل کے دوران 278 پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کے طلبا جان کی بازی ہار گئے جبکہ 67 اساتذہ بھی ہلاک ہوئے۔ اسی عرصے میں 196 طلبا اور 26 اساتذہ زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جو تعلیمی شعبے پر حملوں کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔

حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی کے مطابق مجموعی طور پر 942 تعلیمی ادارے متاثر ہوئے، جن میں سے 18 مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ دیگر کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ حملے اس وسیع عسکری مہم کا حصہ ہیں جو 28 فروری سے شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں نہ صرف تعلیمی ڈھانچہ بلکہ شہری زندگی کے دیگر شعبے بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر 125,640 شہری یونٹس کو نقصان پہنچا، جن میں تقریباً 100,000 رہائشی مکانات، 20,500 تجارتی املاک اور 339 صحت کے مراکز شامل ہیں۔

حکام کے مطابق اس تنازع میں اب تک 3,300 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہو کر انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، جس نے خطے میں ایک بڑے انسانی المیے کی شکل اختیار کر لی ہے۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں اور شہری انفراسٹرکچر کو پہنچنے والا یہ نقصان نہ صرف فوری انسانی اثرات رکھتا ہے بلکہ طویل المدتی سماجی و معاشی استحکام کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close