ہیڈ لائنز

آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب بھی بند ہوگی ، خودمختاری کے دفاع کا اعلان

 



 آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب بھی بند ہوگی  ، خودمختاری کے دفاع کا اعلان

امریکی پالیسیوں پر شدید تنقید، علاقائی گزرگاہوں پر کنٹرول کو ایران کا جائز حق قرار، مزاحمتی محور متحد

اتوار، 19 اپریل 2026ء
رپورٹ جستجو نیوز

تہران
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایران نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ ایرانی مؤقف کے مطابق خطے میں حالیہ صورتحال بیرونی دباؤ اور یکطرفہ امریکی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جس کا مقابلہ کرنا ہر خودمختار ریاست کا بنیادی حق ہے۔

ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ عالمی قوانین کے تحت ہر ملک کو اپنے دفاع، وسائل اور اہم تجارتی راستوں کے تحفظ کا مکمل اختیار حاصل ہے، تاہم امریکہ کی جانب سے ایران کو ان حقوق سے محروم کرنے کی کوششیں نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ عالمی اصولوں کے بھی منافی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کو خطے میں عدم استحکام کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے، جنہوں نے سفارت کاری کے بجائے دباؤ اور دھمکیوں کا راستہ اختیار کیا۔

ایران کے سرکاری اور عسکری حلقوں کے مطابق آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے پر کنٹرول کا مقصد عالمی تجارت کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اپنی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک ایران کے خلاف اقتصادی اور عسکری دباؤ برقرار رہے گا، اس وقت تک دفاعی اقدامات بھی جاری رہیں گے۔

دوسری جانب یمن میں مزاحمتی تحریک انصار اللہ کی جانب سے باب المندب کے حوالے سے دی گئی دھمکی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں خطے کی مزاحمتی قوتیں بیرونی مداخلت کے خلاف متحد دکھائی دیتی ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ ایک وسیع تر جغرافیائی و سیاسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنا ہے۔

ایرانی عسکری ادارہ پاسداران انقلاب پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ ایران پر کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب فوری اور مؤثر انداز میں دیا جائے گا۔ حکام کے مطابق ایران نے ہمیشہ امن کو ترجیح دی ہے، تاہم اگر اس پر دباؤ ڈالا گیا تو وہ اپنے دفاع میں ہر ممکن قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایران نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی سطح پر بھی مضبوط پوزیشن میں دکھائی دیتا ہے، جہاں وہ ایک خودمختار ریاست کے طور پر اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close