ایران کی کامیابی میدانِ
جنگ سے میزِ مذاکرات تک
تحریر:ابوصفدرسنجرانی
عالمی سیاست کے
پیچیدہ منظرنامے میں حالیہ ایران،امریکا،اسرائیل کشیدگی ایک ایسے موڑ پر آ کھڑی
ہوئی ہے جہاں طاقت،حکمتِ عملی اور سفارت کاری کے تمام دعوے کڑی آزمائش سے گزرے
ہیں،یہ تنازع محض عسکری برتری کا نہیں بلکہ بیانیے،استقامت اور طویل المدتی حکمتِ
عملی کا بھی امتحان ثابت ہوا،اور اس امتحان میں ایران نے خود کو ایک ایسے فریق کے
طور پر منوایا جو نہ صرف میدانِ جنگ میں بلکہ میزِ مذاکرات پر بھی اپنی شرائط
منوانے کی صلاحیت رکھتا ہے،امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کا آغاز بظاہر
ایک سفارتی پیش رفت کے طور پر پیش کیا گیا،مگر اس کے پس پردہ عوامل کہیں زیادہ
پیچیدہ تھے،امریکی عوام کی بڑھتی ہوئی جنگ مخالف رائے،کانگریس میں شدید تنقید،اور
سب سے بڑھ کر آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تیل منڈی میں پیدا ہونے والا
بحران،ان تمام عوامل نے واشنگٹن کو ایک دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کیا،یہی
وہ مقام تھا جہاں مذاکرات ایک سنجیدہ امن کوشش سے زیادہ فیس سیونگ کی حکمتِ عملی
بن کر سامنے آئے،اس کے برعکس ایران نے نہایت مربوط اور کثیرالجہتی حکمتِ عملی
اپنائی،عسکری سطح پر اس نے اپنی دفاعی اور جوابی صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں
استعمال کیا،خطے میں اپنے اتحادی نیٹ ورک کو متحرک رکھا اور یہ واضح پیغام دیا کہ
کسی بھی جارحیت کا جواب محدود نہیں بلکہ ہمہ گیر ہوگا،یہی وجہ ہے کہ امریکا اور
اسرائیل،اپنی جدید ترین عسکری قوت کے باوجود،وہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے جن
کی بنیاد پر انہوں نے اس تصادم کا آغاز کیا تھا،اسرائیل کا کردار اس پورے تناظر
میں مزید نمایاں ہو جاتا ہے،اس کی قیادت نے مسلسل جارحانہ بیانات کے ذریعے اپنے
توسیع پسندانہ عزائم کو واضح رکھا اور مذاکراتی عمل سے اپنی بے اطمینانی کا کھل کر
اظہار کیا،مگر زمینی حقائق نے اس بیانیے کو تقویت دینے کے بجائے اسے کمزور
کیا،کیونکہ میدانِ جنگ میں حاصل نہ ہونے والی کامیابیاں سفارتی میز پر بھی ان کے
ہاتھ نہ آسکیں
اہم سوال یہی ہے کہ اگر عسکری دباؤ،اقتصادی پابندیاں اور
سفارتی تنہائی ایران کو جھکانے میں ناکام رہیں تو پھر مذاکراتی عمل کس بنیاد پر
کامیاب ہوسکتا تھا؟امریکا اور اس کے اتحادی اس بنیادی تضاد کا تسلی بخش جواب دینے
میں ناکام دکھائی دیے،یہی وجہ ہے کہ مذاکرات ایک منطقی انجام تک پہنچنے کے بجائے
تعطل کا شکار ہوگئے
پاکستان نے اس تمام صورتحال میں ایک ذمہ دار اور متوازن
ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی،اسلام آباد کی سفارتی کاوشیں اس بات کی عکاس
تھیں کہ خطے میں استحکام کے لیے سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں،تاہم جب ایک فریق کی
نیت اور حکمتِ عملی میں تضاد ہو تو ثالثی کی کوششیں بھی محدود اثر رکھتی ہیں،یہی
کچھ اس معاملے میں بھی دیکھنے میں آیا،مذاکرات کی ناکامی نے درحقیقت امریکا اور
اسرائیل کی سفارتی ساکھ کو مزید نقصان پہنچایا،جو قوتیں خود کو عالمی نظام کی
معمار اور ضامن قرار دیتی رہی ہیں،وہ اس بحران میں نہ تو عسکری برتری ثابت کر سکیں
اور نہ ہی سفارتی کامیابی حاصل کر سکیں،اس کے برعکس ایران نے ایک مربوط
بیانیہ،مستقل مزاجی اور زمینی حقائق کے ادراک کے ساتھ خود کو ایک مؤثر فریق کے طور
پر منوایا،اب یہ تنازع ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں جنگ محض ہتھیاروں
تک محدود نہیں رہی بلکہ اخلاقی جواز،عالمی رائے عامہ اور معاشی اثرات بھی اس کا
حصہ بن چکے ہیں،امریکا اور اسرائیل کو نہ صرف میدان میں چیلنجز کا سامنا ہے بلکہ
عالمی سطح پر اپنے اقدامات کے جواز کو بھی مسلسل دفاع کرنا پڑ رہا ہے،اس پورے
تناظر میں ایران کی حکمتِ عملی کو ایک جامع ماڈل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے،جہاں
عسکری طاقت،سفارتی بصیرت اور عوامی بیانیہ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر نتائج
پیدا کرتے ہیں،یہی ہم آہنگی وہ عنصر ثابت ہوئی جس نے ایران کو میدانِ جنگ سے لے کر
میزِ مذاکرات تک ایک مضبوط اور کامیاب فریق کے طور پر ابھارایہ کہنا قبل از وقت نہ
ہوگا کہ اس تنازع نے عالمی طاقت کے توازن،جنگ اور سفارت کاری کے روایتی تصورات کو
چیلنج کیا ہے،اور ایک نئی حقیقت کو جنم دیا ہے جہاں محض عسکری قوت کافی نہیں بلکہ
حکمت،صبر اور بیانیے کی برتری ہی اصل کامیابی کی ضامن بنتی جا رہی ہے۔

0 Comments