متحدہ عرب امارات کو قرض واپسی، پاکستان کی مالی ذمہ داریوں کی بروقت
ادائیگی
دو ارب ڈالر ادا، مزید ڈیڑھ ارب 23 اپریل کو واجب الادا، ذخائر مستحکم
رکھنے کا دعویٰ
اتوار، 19 اپریل 2026ء
رپورٹ جستجو نیوز
اسلام
آباد
پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو دو ارب ڈالر کا قرض واپس
کر کے اپنی مالی ذمہ داریوں کی بروقت ادائیگی کا عملی مظاہرہ کیا ہے، جبکہ مزید
ڈیڑھ ارب ڈالر کی ادائیگی 23 اپریل کو متوقع ہے۔
اسٹیٹ
بینک آف پاکستان نے اس ادائیگی کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ قرض کی واپسی
کے باوجود ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا اور بیرونی
ادائیگیوں کے لیے مکمل انتظام موجود ہے۔
ذرائع
کے مطابق متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے مجموعی طور پر 3.5 ارب ڈالر کی واپسی کا مطالبہ
کیا تھا، جس میں سے دو ارب ڈالر ادا کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی ڈیڑھ ارب ڈالر کی
ادائیگی مقررہ تاریخ پر مکمل کی جائے گی۔
دوسری
جانب پاکستان کی مالی پوزیشن کو سہارا دینے کے لیے سعودی عرب کی جانب سے حال ہی
میں دو ارب ڈالر موصول ہوئے ہیں، جبکہ عالمی مالیاتی منڈی میں یورو بانڈز کی فروخت
سے 500 ملین ڈالر بھی حاصل کیے گئے ہیں، جس سے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو متوازن
کرنے میں مدد ملی ہے۔
معاشی
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان اپنی بین الاقوامی مالی
ذمہ داریوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بیرونی ادائیگیوں کے لیے متبادل
ذرائع کو مؤثر انداز میں استعمال کر رہا ہے۔
ذرائع
کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کو مکمل ادائیگی کے بعد بھی ملکی زرمبادلہ کے
ذخائر مستحکم رہیں گے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت اور مالیاتی ادارے
بیرونی مالی دباؤ سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں۔

0 Comments