ہیڈ لائنز

سلامتی کونسل میں بڑی طاقتوں کا ٹکراؤ، ہرمز قرارداد ویٹو، پاکستان خلیجی مؤقف کے ساتھ

 




 United Nations Security Council میں آبنائے ہرمز پر قرارداد مسترد، پاکستان کی کھولنے کی حمایت واضح
بحرین کی پیش کردہ قرارداد کو چین اور روس کا ویٹو، پاکستان نے خلیجی ممالک کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا

 
منگل 7 اپریل 2026
جستجو نیوز

United Nations Security Council کے اہم اجلاس میں آبنائے ہرمز سے متعلق پیش کی گئی قرارداد عالمی طاقتوں کے اختلافات کی نذر ہو گئی، جہاں China اور Russia نے ویٹو کا استعمال کرتے ہوئے اس مسودے کو مسترد کر دیا، جبکہ پاکستان نے کھل کر آبنائے ہرمز کو بحال رکھنے کی حمایت کا اظہار کیا۔

یہ قرارداد Bahrain کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس کا مقصد خطے میں بڑھتی کشیدگی کے دوران اہم عالمی تجارتی گزرگاہ کو کھلا رکھنے کو یقینی بنانا تھا، تاہم بڑی طاقتوں کے اختلافات نے اس پیش رفت کو روک دیا۔

اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب Asim Iftikhar Ahmad نے واضح کیا کہ پاکستان مشکل حالات میں اپنے برادر خلیجی ممالک کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ Gulf Cooperation Council کے رکن ممالک بشمول Saudi Arabia، Qatar، Kuwait، United Arab Emirates اور Oman اگرچہ براہِ راست تنازع کا حصہ نہیں، مگر اس کے اثرات سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنز کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے، ایسے میں ضروری ہے کہ تمام فریقین تحمل اور سفارتی راستہ اختیار کریں۔

مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک کلیدی گزرگاہ ہے، اور اس سے متعلق کسی بھی قسم کی بندش یا کشیدگی عالمی منڈیوں میں شدید عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔

اجلاس کے نتائج نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان اختلافات نہ صرف سفارتی عمل کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ حساس عالمی معاملات پر مشترکہ لائحہ عمل کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔

 


0 Comments

Type and hit Enter to search

Close